SEARCH

« Mumbai fallout tests govt-military ties | Home | Dawood and ISI involved in Mumbai attack’ »

کیا پاک بھارت ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟خالد منہاس

By admin | November 30, 2008



اس وقت یہ سوال سب سے اہم ہے کہ کیا پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادت کوئی عاقبت نا اندیش فیصلہ تو نہیں کرنے جارہی اور اگر ایسا ہوا تو ایک بار پھر پاکستان اور بھارت جو دو ایٹمی طاقتیں ہیں وہ ایک دوسرے کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں گے اور ایک چھوٹا سا حادثہ ایک ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ۔

بھارت سے خیر سگالی کے جذبے کے تحت پاکستا ن کے صدر آصف علی زرداری نے یہ اعلان تو کیا تھا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کریں گے لیکن پاکستان اگر روائتی جنگ میں مشکل میں پڑ گیا تو پھر کسی بھی فیصلے کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ اس طرف دونوں طرف کے عوام جو دنیا کا ایک بڑا حصہ ہے اپنی اپنی قیادتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں اور یہ دعا کی جارہی ہے کہ اس خطے کے ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالا جائے

بھارت سے اب تک جو اشارے سامنے آئے ہیں اس کے تحت ہر ممکن طریقے سے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی سر توڑ کوشش ہو رہی ہے ۔ بھارت میں کانگرس کی حکومت آئندہ انتخابات میں ناکامی کے ڈر سے پاکستان کی یقین دہانیوں کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ممبئی حملوں کا ڈراپ سین ہوچکا ہے لیکن حملوں کے کچھ دیر بعدپاکستان پر کسی ثبوت کے بغیر الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا اورحسب معمول بھارتی میڈیا اور تجزیہ کار بھی پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کررہے ہیں

۔ ممبئی میں انسٹھ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے عسکریت پسندوں کے حملوں کے بارے میں نیشنل سیکیورٹی گارڈز کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔ان حملوں میں دوسوکے قریب افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں،تاہم حسب معمول بھارتی میڈیا کی جانب سے حملوں سے کچھ دیر بعد ہی کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزامات کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔بھارتی حکومت کی جانب سے کسی ثبوت کے بغیرپاکستان پر حملوں میں ملوث ہونے سے متعلق الزام تراشی کے بعد توبھارتی میڈیا پر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ تیز کردیا گیا ہے۔بھارت کے مختلف ٹی وی چینلز پر بھارتی اینکرزاور تجزیہ کار کی گفتگو اور تجزیے سے ایسا لگتا ہے کہ وہ ہر صورت ان حملوں میں پاکستان کو ملوث کرنا چاہتے ہیں یا انہیں ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ تیز کردیں۔بھارتی ٹی وی چینل آج تک میں کسی ثبوت کے بغیرپراپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ ممبئی حملوں میں ملوث عسکریت پسندوں نے پاکستان میں تربیت حاصل کی،انہیں آئی ایس آئی اور پاک فوج نے تربیت دی۔آج تک میں ہی جس کشتی میں مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کی ممبئی آمد ظاہر کی جارہی ہے اس میں ایک لاش بھی ملنے کی اطلاع دی گئی ہے جس کے مطابق یہ لاش امر سنگھ ٹنڈل کی ہے جس کا تعلق پاکستان سے رہا ہے اور وہ ایک برس پاکستانی جیل میں رہا ہے۔سی این این آئی بی این پر راج دیپ سردیسائی کے شومیں شوبھا ڈے کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ ان کے کیمپس کہاں ہیں۔سی این این انڈیا کے ایک اینکرنے پاکستانی وزیر خارجہ کی پریس بریفنگ کے بعد پروگرام کے آخر میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ملوث گروپوں کو کور فراہم کررہا ہے، ایک اور بھارتی چینل انڈیا ٹی وی نے تو کھلے عام ان حملوں کا الزام کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر لگایا اور یہاں تک کہا کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے۔اسٹار نیوز چینل نے پراپیگنڈہ کرتے ہوئے حملوں کے ماسٹر مائنڈ کے طور پرچاچا رحمان نامی شخص کا نام دیا ور کہا کہ چاچارحمان لشکر طیبہ کا کمانڈر اورمبینہ طور پر کراچی میں رہتاہے۔بھاترتی چینل ٹائمز ناو¿ نے بھی اس پراپیگنڈے میں بھرپور حصہ لیا اورڈی جی آئی ایس آئی کو بھارت نہ بھیجنے کے معاملے کو اس کی نزاکت کو سمجھے بغیر اپنے پراپیگنڈے میں استعمال کیا اوردہشتگردی کاالزام پاکستان پر لگایا۔زی نیوز نے بھی پراپیگنڈے کا حصہ بنتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ وزیراعظم من موہن سنگھ پاکستان کیخلاف الزامات ان کے حوالے کرنیوالے تھے۔زی ٹی وی نے کسی ثبوت کے بغیر الزام لگائے کہ عسکریت پسندوں کو کراچی سے ہتھیار اور اسلحہ ملا۔زی نیوز نے تو براہ راست پاک بحریہ کو ممبئی حملوں میں ملوث عناصر کی معاونت تک کا الزام لگادیا اور حملہ آوروں کو پاکستان میں تربیت دیئے جانے کا بھی پراپیگنڈہ کیا۔ دوسری طرف بھارت کے وزیرداخلہ شیوراج پٹیل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔ انہوں نے ممبئی میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ وزیراعظم من موہن سنگھ کو بھجوادیا ۔واضح رہے کہ ممبئی میں دھماکے اور فائرنگ کے واقعات کے بعد وزیرداخلہ شیوراج پٹیل پر وزارت سے مستعفی ہونے کے لئے شدید دباو¿ تھا۔
بھارتی میڈیا اور سیاست دانو ںنے ایک طوفان بدتمیزی برپاکر دیا ہے۔نائب وزیر داخلہ شکیل احمد نے کہا کہ حملہ آوروں کو ایک پاکستانی جزیرے پر تربیت فراہم کی گئی تھی۔حملوں کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ ان حملوں کی کڑیاں پاکستان تک جاتی ہیں۔مسٹر شکیل احمد نے اعتراف کیا کہ مہارشٹر کی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان تال میل کی کمی رہی۔ادھر، ان حملوں کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے پس منظر میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ہانگ کانگ کا اپنا چار روزہ سرکاری دورہ منسوخ کر دیا ۔وزیراعظم کے پریس سیکرٹری زاہد بشیر نے وزیراعظم کی روانگی سے کچھ دیر قبل دورے کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ممبئی بم دھماکوں کے بعد بھارت کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد وزیراعظم نے اپنا غیر ملکی دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔طے شدہ پروگرام کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ہانگ کانگ میں ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کرنا تھی جس کا اہتمام امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کی قائم کردہ غیر سرکاری تنظیم کلنٹن فاو¿نڈیشن نے کیا ہے۔گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک بریفنگ میں بعض اہم سیکیورٹی افسران نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کو الرٹ کیا جا رہا ہے۔اس صورتحال کے پس منظر میں وزیراعظم گیلانی نے ہفتے کی شب ملکی کی اہم سیاسی قیادت کو ٹیلی فون کر کے اس تمام صورتحال کے بارے میں اعتماد میں لیا تھا۔ وزیراعظم نے رات گئے اپنے چینی ہم منصب کو بھی فون کیا تھا جس میں بھارتی ممکنہ عزائم کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔پاکستان نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے اپنی فوجیں سرحدوں پر بھیجیں تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا دے گا
حکومت پاکستان نے ممبئی میں گزشتہ چار روز کے دوران مسلح ہتھیار بندوں کی طرف سے ممبئی کے اہم مقامات پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی جن میں دو سو سے قریب افراد ہلاک ہوئے لیکن
ممبئی کے دو فائیو سٹار ہوٹلوں اور یہودیوں کے مرکز کو شدت پسندوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے ہونے والے آپریش کے خاتمے سے پہلے ہی ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھر جی نے کہا تھا کہ ممبئی پر حملے میں ملوث کچھ عناصر کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن جو ابتدائی ثبوت ملے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اس واقعہ کا پاکستان کے کچھ عناصر سے تعلق ہے۔‘ پاکستان کو سو سنگین صورتحال درپیش ہے اس کے پیش نظر پاکستانی کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس ہوااجلاس کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ یہ بات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ حالات میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کیا جائے۔
جس رات ممبئی میں خونی ڈرامہ شروع ہوا اس رات پاکستانی وزیرِ خارجہ جامع مذاکرات کے پانچویں دور کے لئے بھارت میں اور بھارت کے سکریٹری داخلہ فروغِ اعتماد سازی کے لئے پاکستان میں تھے۔ جیسے ہی ممبئی پر دہشت گردوں نے قبضہ کیا الیکٹرونک میڈیا نے ناظرین کے ذہنوں پر قبضہ کرلیا۔بعض بنیادی سوالات کا جائزہ لینے میں کوئی حرج نہیں۔مثلاً یہی کہ کل کتنے دہشت گرد تھے۔ کن کن راستوں سے ممبئی میں داخل ہوئے۔ان میں مقامی کتنے تھے اور غیرمقامی کتنے۔ ملکی کتنے تھے اور غیرملکی کتنے۔اگر سمندر کے راستے آئے تو کس طرح اور کتنے حفاظتی دائرے توڑ کر اور کتنے سکیورٹی اداروں کو جل دے کر داخل ہوئے۔ اگر خشکی کے راستے آئے تو کونسا روٹ اور طریقہ استعمال کیا۔کیا کسی بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کو یہ اندازہ تھا کہ ممبئی میں کوئی بڑی واردات ہونے والی ہے۔اگر اندازہ تھا تو کس ایجنسی نے کس کو کتنے عرصے پہلے خبردار کیا اور اس وارننگ کو کس حد تک سنجیدگی سے لیا گیا۔اگر اندازہ نہیں تھا تو اسکی وجوہات کیا تھیں اور ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔کیا دہشت گرد اپنا اسلحہ اور گولہ بارود ساتھ لے کر آئے تھے یا انہیں مقامی طور پر یہ سامان فراہم کیا گیا۔اگر تمام دہشت گرد اجنبی تھے تو انہیں شہری اہداف تک کس نے پہنچایا۔ کیا یہ واردات سے کچھ دن پہلے ممبئی میں داخل ہوچکے تھے تا کہ آپریشن کے مقامات سے اچھی طرح واقف ہوسکیں یا مقامی اداروں، گروہوں یا اہداف کے اندر کام کرنے والے کچھ لوگ انہیں ہر پیش رفت سے مطلع کرتے رہے۔ بالخصوص جن فائیو سٹار ہوٹلوں میں وہ اسلحے سمیت گھسنے میں کامیاب ہوئے، کیا وہاں سیکورٹی کے انتظامات کی کمزوریوں سے وہ واقف تھے یا کسی واقفِ حال نے ان کی مدد و رہنمائی کی۔آپریشن کے پہلے ہی مرحلے میں جن تین اعلی پولیس افسروں کو مارا گیا کیا یہ اتفاقاً مارے گئے یا اجنبی دہشت گرد انکی شکلوں اور نقل و حرکت سے بخوبی واقف تھے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ان مارے جانے والے افسروں میں ریاست مہاراشٹر کے شعبہ انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ ہیمنت کرکرے بھی شامل تھے جو مالیگاو¿ں بم دھماکوں کی تحقیقات کر رہے تھے اور جن کے بارے میں بتایا گیا کہ انہیں مسلسل قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔انیس سو ترانوے کے ممبئی بم دھماکوں سے لے کر سن دو ہزار دو کے پارلیمنٹ ہاو¿س پر حملے اور کچھ عرصہ پہلے دہلی اور پھر گوہاٹی کے کثیر الہدف دھماکوں اور کابل میں بھارتی سفارتخانے کے دھماکے تک بیسیوں وارداتوں کے طریقِ کار کے مطالعے سے کیا کوئی ایسا مربوط خاکہ سامنے آیا جس سے ان وارداتوں میں اختیار کیے گئے طریقوں اور مشکوک اندرونی و بیرونی گروہوں کی تکنیک، پیٹرن اور ڈھانچے کی ایک واضح تصویر اور گراف بن سکے۔اگر ان وارداتوں میں اندرونی گروہ ملوث تھے تو کیا ان کے بارے میں بنیادی انٹیلی جینس معلومات مناسب حد تک موجود ہیں۔اگر ان وارداتوں میں بیرونی ہاتھ رہا ہے تو کیا متعلقہ ممالک سے اس سلسلے میں ہر دفعہ سنجیدگی سے رابطہ کیا گیا۔ کیا ان کو تحقیقاتی رپورٹیں یا شواہد سے آگاہ کیا گیا تاکہ ان کے کان ہوجائیں۔اگر بھارتی میڈیا کے مطابق تازہ واردات کے نشانات پاکستان تک پہنچ رہے ہیں تو کیا یہ نشانات آئی ایس آئی تک پہنچ رہے ہیں یا ان گروہوں میں سے کسی کا کارنامہ ہے جو پاکستان کے اندر بھی ایسی ہی وارداتیں کر رہے ہیں یا پھر کوئی ایسا گروہ ہے جس کا نشانہ پاکستان نہیں صرف بھارت ہے۔ان حالات میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے کسی مشترکہ میکینزم کی ضرورت ہے یا نہیں۔اور اگر اس میں پاکستان کی کوئی سرکاری ایجنسی یا اس کے کچھ بے لگام افراد ملوث ہیں تو پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایک ایسے وقت جب پاکستان کو مغربی سرحد پر امریکی حملوں، قبائلی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کی کاروائیوں، شہروں میں خودکش حملوں اور بلوچستان میں سنگین سیاسی بے چینی کا سامنا ہے، ممبئی جیسی وارداتوں کے ذریعے ایک اور محاذ کھول کر وہ ادارہ یا افراد کوئی قومی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں یا صرف پاکستان اور بھارت کے امن عمل کو ہائی جیک کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان کو یہ جائزہ لینا ہوگا کہ ایسا کیوں ہے کہ افغانستان، بھارت اور ایران کے ساتھ ساتھ روس، چین، امریکہ اور برطانیہ بھی اس کے بارے میں مشکوک ہیں۔ غیرسرکاری یا سرکاری کردار کتنے بے لگام ہیں۔ خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کے بارے میں متعلقہ اداروں میں کتنی یکجہتی یا غیر ہم آہنگی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ سیاسی حکومت اور اداروں کا اپنا اپنا ایجنڈہ ہو۔ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کے لئے پاکستان کو کیسی مدد و تعاون درکار ہے یا بطور ریاست پاکستان کو اب بھی یقین ہے کہ وہ تنِ تنہا سارے مسائل اور پیچدگیاں حل کرسکتا ہے۔
ممبئی میں دو روز قبل ہونے والے حملوں کی تفتیش کے بارے میں پہلو سامنے آرہے ہیں اس پر آئی بی ، پولیس اور انسداد دہشتگردی کا عملہ کام کررہا ہے ممبئی میں پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ حملے کرنے والے دو افراد نے گرفتاری کے بعد بتایا ہے کہ وہ ایک ماہ سے شہر میں موجود تھے اور حملوں کی تیاری کررہے تھے اس کے علاوہ حکام پورٹ بندر میں تیرہ نومبر کو درج کروائی گئی ایک درخواست پر بھی کام کررہے ہیں جس میں ایک شخص ونود مسانی نے کہا تھا کہ پانچ مچھیرے ان سے ایک کشتی لے گئے تھے اورپھر واپس نہیں آئے شبہ ظاہر کیا گیا کہ حملہ آوروں نے سمندر کے کنارے واقعے ہوٹل تاج اور اوبیرائے پہنچنے کیلئے یہ کشتی استعمال کی تھی اس کے علاوہ کوسٹ گارڈ اور بحریہ کے ایک ترجمان کیپٹن منوہر کے مطابق سمندر کے کنارے ایک لاش ملی ہے جس کے بارے میں ونود مسانی کا کہنا ہے کہ یہ ان پانچ لوگوں میں سے ایک کی ان سے کشتی لے گئے تھے ممبئی کے پولیس اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ پکڑے جانے والے افراد کے نام ابو امعیل اور اجمل عامر ہیں اور ان کا تعلق انڈیا سے نہیں حکام کے مطابق کارروائی میں آٹھ حملہ آور ہلاک ہوئے ہیں پولیس اہلکار کی طرف سے بتائی گئی باتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی اہلکار کے مطابق حملہ آوروں نے بتایا کہ وہ ایک ماہ قبل ممبئی آئے تھے اور ان میں سے دو دو نے تاج اور اوبیرائے ہوٹلوں میں کمرے بک کروائے حملہ آوروں نے بتایا کہ وہ ایک ہفتے کے لیے کمرہ بک کرواتے اور حملے کی تیاری کے لیے ہوٹل کی تفصیلات جمع کرتے رہے انہوں نے کہا کہ وہ ہوٹل میں سامان اور اسلحہ بھی جمع کرتے رہے انہوں نے بتایا کہ ایک ہفتے کے بعد ان کے دو ساتھی آکر بھی وہیں کمرہ بک کرنے کے لیے کہتے اور مزید تفصیلات جمع کرتے پولیس اہلکار نے بتایا کہ حملہ آوروں کے مطابق انہوں نے حملے سے ایک روز پہلے ہوٹل کے کچن سے بڑی مقدار میں کھانے پینے کی اشیاءبھی جمع کی تھیں پولیس اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ ان دو حملہ آوروں کو کہاں سے پکڑا گیا۔
اب آتے ہیں اس دہشت گرد کی طرف جس کے حوالے سے دعوی کیا جارہا ہے کہ بھارتی ایجنسیوں نے اسے زندہ گرفتار کیا ہے ۔بین الاقوامی میڈیا میں بھارتی شہر ممبئی میں حالیہ دہشت گردی کے بعد گرفتار ہونے والے مبینہ پاکستانی کا ذکر تین مختلف ناموں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ابتداءمیں اجمل عامر کمال نام سامنے آیا، پھر اعظم عامر کسو اور اب ممبئی سے گرفتار ہونے والے مبینہ پاکستانی کو اجمل محمد عامر کسب یا قصاب کہا جا رہا ہے۔بھارت سمیت مختلف یورپی ممالک کے اخبارات اپنے اپنے ذرائع کے مطابق زیرِ حراست دہشت گرد کا مختلف نام استعمال کر رہے ہیں لیکن ان تمام اخبارات کا ایک ہی دعویٰ ہے کہ اجمل عامر کا تعلق پاکستان میں جنوبی پنجاب کے شہر ملتان کے علاقے فرید کوٹ سے ہے۔ملتان شہر کے گرد و نواح میں فرید کوٹ نامی کوئی قصبہ نہیں تاہم ملتان ڈویڑن کے دو اضلاع میں دو مختلف فرید کوٹ ہیں۔ایک فرید کوٹ ملتان سے تقریباً پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ضلع خانیوال کی شہری حدود میں واقع ہے۔ خانیوال شہر سے پانچ کلو میٹر فاصلے پر اس گاو¿ں کا سرکاری نام ’نوے دس آر‘ ہے تاہم یہ گاو¿ں فرید کوٹ کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔ یہ گاو¿ں بمشکل ایک سو مکانات پر مشتمل ہے۔ گاو¿ں میں ایک چھوٹی سی مسجد اور آٹھویں جماعت تک کا ایک سکول ہے۔اس فرید کوٹ کے زیادہ تر لوگ کاشتکاری کرتے ہیں یا پھر مزدوری کرنے خانیوال شہر جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں سے بات چیت کے بعد پتہ چلا کہ وہاں سے نہ تو کبھی کوئی جہاد پر گیا ہے اور نہ ہی اجمل عامر کمال نامی کوئی شخص یا اس کا خاندان کبھی گاو¿ں میں رہا ہے۔ملتان ڈویڑن کا دوسرا فرید کوٹ بابا فرید گنج شکر کے شہر پاکپتن شریف سے چودہ کلو میٹر اور ملتان شہر سے دو سو کلو میٹر دور ہے۔ یہ قصبہ شمال مشرق میں سرحد پار بھارتی ضلع فیروز پور سے محض پینتالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔پاکپتن کا فرید کوٹ پاکستان کے روایتی دیہات کا منظر پیش کرتا ہے جہاں ہر شخص دوسرے شخص کو جانتا ہے۔ دو حصوں میں تقسیم اس قصبے کی آبادی دو ہزار کے لگ بھگ ہے اور زیادہ تر لوگ کاشتکاری کرتے ہیں۔ قصبے کے چند نوجوان روزگار کے حصول کے لیے ملک کے دیگر شہروں یا متحدہ عرب امارات منتقل ہوگئے ہیں تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی شخص کبھی نام نہاد جہاد یا کسی تنظیم میں شامل ہونے کے لیے گھر چھوڑ کر نہیں گیا۔ اجمل عامر کمال کا نام اس فرید کوٹ کے لوگوں کے لیے بھی نیا ہے۔اس فریدکوٹ میں نہ تو کوئی مدرسہ ہے اور نہ ہی آٹھویں جماعت کے بعد کوئی سکول۔ عام دیہاتوں کی طرح یہ دیہات بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے اور زیادہ تر لوگ ان پڑھ ہیں۔ قصبے میں بولی جانے والی زبان خطے کی سرائیکی زبان سے ہٹ کر ہے اور پنجابی اور سرائیکی کا درمیانی لہجہ سنائی دیتی ہے۔ مقامی لوگ اردو بولنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
ممبی میں ہونے والی دہشت گردی نے پاکستان کو ایک مشکل میں ڈال دیا ہے اور یہ گمان کیا جارہا ہے کہ کہیں بھارت اس دہشت گردی کی آڑ میں پاکستان پر حملہ نہ کر دے۔ اس ساری صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی اور ممبئی میں حملوں سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تبادلہِ خیال کیا۔ حکومت پاکستان نے ممبئی میں حملوں سے پیدا ہونے والی مشکل صورتحال پر قومی اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے پارلیمان کے اندر اور باہر موجود تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ اس بند کمرے کے غیرمعمولی اجلاس میں ممبئی میں حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا گیا تھا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قوم کو درپیش صورتحال پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ قومی اتفاق رائے پیدا ہو سکے اور ملک کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہو جائے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومت اس عمل کا پہلے ہی آغاز کر چکی ہے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے اس ضمن میں ٹیلیفون پر رابطے کئے ہیں۔اس سلسلے میں نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین کے علاوہ الطاف حسین، اسفندیار ولی، مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف، قاضی حسین احمد اور عمران خان سے ممبئی واقعات کے تناظر میں پیدا صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے موجودہ حالات پر ان رہنماو¿ں کو اعتماد میں لیا۔ بیان کے مطابق تمام رہنماو¿ں نے حکومت کو اس مشکل موقع پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تمام قوم کو متحد ہونے کی تلقین کی ہے۔ صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران پاکستان کی ایک سیکورٹی ایجنسی کے اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے ابتدائی ثبوت پاکستان کو پیش کر دیے انہوں نے کہا تھا کہ اگر بھارت نے اپنی فوجیں سرحدوں پر بھیجیں تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا دے گا۔جب اعلیٰ سکیورٹی اہلکار سے پوچھا کہ ایسی صورت میں افغان سرحد کا کیا بنے گا تو انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تناو¿ کی صورت میں اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو قبائلی خود سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی وزیر دفاع اور مسلح افواج کے سربراہوں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران بھارتی وزیر اعظم نے انہیں بتایا کہ اگر یہ بات ثابت ہو گئی کہ پاکستان ممبئی حملوں ملوث ہے تو اسے اس کی ’قیمت‘ ادا کرنا پڑے گا۔
گزشتہ روز تاج ہوٹل کا محاصرہ ختم ہونے کے بعد سکیورٹی حلقوں میں یہ سوال اٹھنا شروع ہو گیا ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے ان حملوں کو کیوں نہ روک سکے۔دِلی کے انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ مینیجمنٹ سے منسلک دہشت گردی کے امور کے ماہر ڈاکٹر اجے ساہنی نے بتایا کہ بھارتی حکومت نے نیشنل سکیورٹی گارڈز کی تعیناتی میں بہت دیر کی۔ انہوں نے کہا کہ ’اکیسویں صدی کے اس قہر‘ سے نپٹنے کے لیے آپریشن کو اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔تاہم ریاسٹ مہاراشٹر کی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ممبئی حملوں کے موقع پر انتہائی بروقت ردِ عمل دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی آپریشن کو منظم ہونا تھا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو کئی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو جاتا۔
مبئی حملوں کے بعد صورتحال سنگین ہے اور آئندہ 48 گھنٹے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان کی ایک شخصیت کو فون کر کے دھمکی دی ہے کہ ممبئی حملوں کے نتائج پاکستان کیلئے خطرناک ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات اسلام آباد میں آئی ایس آئی کی طرف سے میڈیا کو دی جانے والی بریفنگ میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ممبئی حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور صورتحال انتہائی سنگین ہے اور حکومت کو اس صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور پاکستان کے تمام ادارے بھی باہمی رابطے میں ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ بھارت اپنی تمام ناکامیوں کو چھپانے کے لئے پاکستان پر الزامات لگانے کے لئے کیس تیار کر رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھارتی خفیہ اداروں کی ناکامی ہے بھارت اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر عالمی برادری پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کی مدد کر رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے اندر انڈین مجاہدین نامی تنظیم موجود ہے جس کے سربراہ عبدالسبحان قریشی عرف توقیر کو بھارت کے خفیہ اداروں نے انڈین بن لادن کا نام دیا ہے لیکن بھارت اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے اس وقت لڑائی کسی کے حق میں نہیں ہو گی اور اگر بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی تو پاکستان اپنے دفاع کے لئے ہر حد تک جائے گا پاکستان کی سکیورٹی فورسز بھارتی عزائم سے باخبر ہیں ہم سوئے ہوئے نہیں تمام معاملات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستانی حکام نے امریکہ اور نیٹو پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر بھارت نے اس معاملے کی آڑ میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ بند نہ کیا گیا اور بھارت کی طرف سے محاذ آرائی کو کم نہ کیا گیا تو ایسی صورت میں پاکستان مجبور ہو جائے گا کہ وہ قبائلی علاقوں میں آپریشن بند کر کے فوج کو بھارت کی سرحد کے ساتھ لے جائے اور دہشت گردی کیخلاف عالمی جنگ پاکستان کی ترجیح نہیںرہے گی اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کشیدگی کا زیادہ نقصان پاکستان نہیں بلکہ بھارت کو ہو گا۔ عسکری ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں بھارت کا خفیہ ادارے ”را“کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں اور ”را“ نہ صرف دہشت گردی پھیلا رہی ہے بلکہ رقم اور اسلحہ بھی فراہم کر رہی ہے اور پاکستان کے پاس ان تمام معاملات کے تحریری ثبوت موجود ہیں۔ بریفنگ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی ادارہ ممبئی کے واقع میں کسی بھی طرح ملوث نہیں اور بھارت کی طرف سے اس کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کے اندرونی حالات کی وجہ سے وہاں حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ وہاں پر کوئی بھی گروپ ایسی کارروائی کر سکتا ہے لیکن بھارتی حکومت اندرونی معاملات پر توجہ دینے کے بجائے پاکستان پر الزام لگا رہی ہے اور ناجائز طور پر پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے دہشت گردی کیخلاف عالمی جنگ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے مزید برآں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا کا وسیع نیٹ ورک ہے ان کو انڈین مجاہدین کہتے ہیں۔ اس گروپ کا ایک لیڈر عبدالسبیحان قرشی عرف توقیر اتنا مضبوط ہے کہ اس کے پاس 60 ہزار مجاہدین موجود ہیں، 6 ہزار افراد ان کی سیاسی اور مالی امداد کرتے ہیں، بھارت کے اپنے حالات بہت خراب ہیں وہاں کوئی بھی گروپ ایسی کارروائی کرسکتا ہے لیکن بھارتی حکومت اندرونی معاملات پر توجہ دینے کی بجائے پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کررہی ہے۔دریں اثناءسیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے ایک نجی ٹی وی نے بتایا ہے کہ کسی بھی صورتحال سے نبٹنے کے لئے مسلح افواج چوکس ہیں۔ ملک بھر میں شہری دفاع کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ ایئرپورٹس اور اہم عمارتوں پر سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی۔
آنے والے وقتوں میں یہ واقعہ کیا رخ اختیار کرے گا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔پاکستان جو خود دہشت گردی کا شکار ہے۔بے نظیر بھٹو کے کراچی آمد کے موقع پر دہشت گردی کے واقع میں جہاں سینکڑوں افراد جاں بحق ہوئے اور بعد ازاں راولپنڈی میں بے نظیر خود بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوگئیں۔اور پھر میریٹ ہوٹل کے سانحہ کی تو ابھی گرد بھی نہیں بیٹھی جبکہ صوبہ سرحد میں تو جو آگ دہشت گردوں نے لگا رکھی ہے اس کا ذکر ہی کرتے ہوئے انسانیت کانپ جاتی ہے۔اور ان کاروئیوں میں پاکستانی فورسسز کے ہاتھوں پکڑے جانے والے یامارے جانے والے دہشت گردوں کا طبعی معائنہ کے دوران غیر مسلم ثابت ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مسلمانوں کے روپ میں پاکستان میں آگ کی ہولی کھیلنے والے کون ہیںاس کے باوجود پاکستان نے اس طرح کھل کر سرکاری سطح پر بھارت پر الزام تراشی نہیں کی بلکہ محتاط انداز میں ان کاروائیوں کا ذکر کیا ہے۔لیکن بھارت نے ٹرین دھماکوں سے لے کر بھارتی پارلیمنٹ اور اب ممبئی دھماکوں تک ہمیشہ بغیر ثبوت اور تحقیقات کے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا۔ حا لیہ دھماکوں پر امریکی ٹی وی کا یہ تبصرہ قابل غور ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان مذاکرات سبو تاز کرنے کے لیے ممبئی میں خون کی ہولی کھیلی ۔ٹی وی چینل کے مطابق ایک ایسے موقع پر جب کہ پاکستان میں بھارت کے ساتھ داخلہ اور خارجہ اعلیٰ سطح پرمذاکرات جاری ہیں اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھارت کے دورہ پر ہیں اس موقع پر فائرنگ اور دھماکوں کا وقوع پزیر ہونا حیر ت انگیز ہے رپورٹ کے مطابق بھارت اس سے قبل بھی اس طرز کے واقعات میں ملوث رہا ہے حال ہی میں مالی گاو¿ں کے علاقہ میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث سابق بھارتی فوج کے کرنل کو گرفتار کیا گیا۔بعد ازاں اس کرنل کا تعلق نہ صرف بھارتی خفیہ ایجنسیوں سے ثابت ہوگیا تھا بلکہ اس نے ٹرین بم دھماکوں سمیت کئی بڑے واقعات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تنظیم ایسی کاروئیاں مسلمانوں کو بدنام کرنے پاکستان اور بھارت کے درمیان خلیج بڑھانے کے لئے کرتی رہی ہے۔ ٹی وی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت پاکستان کی طرح کشمیر کے حل میں سنجیدہ نظر نہیں آتا اور اوبامہ کا اس سلسلے میں دیا گیا بیان بھی سخت ناپسندیدگی کے نگاہ سے دیکھتے ہوئے ثالثی کو مسترد کردیا ۔اس کرنل کے انکشافات کے بعد بھی بھارتی میڈیا اور وزیر اعظم ، وزیر خارجہ اور فوجی قیادت کس ڈھٹائی سے ممبئی دھماکوں کا الزام پاکستان پر لگارہی ہے۔ بھارت کا یہ کہنا ہے ہے دہشت گرد پاکستان کی سمندری حدود کے راستے بھارت میں داخل ہوئے ہیں۔ایم وی الفا اور الکبیر نامی جہازوں کا نام بھی لیا جارہا ہے۔جب کہ پاکستانی بحریہ کے ترجمان وائس ایڈمرل آصف ہمایوں نے ان الزامات کو مستردکرتے ہوئے کہا کہ پاک نیوی میں ایم وی الفا اور الکبیر نامی جہاز شامل ہی نہیں ہیںجب کہ بھارتی بحریہ نے گزشتہ دنوں تھائی لینڈ کے فشنگ ٹرالر کو بحری قزاق قرار دے کر ڈبو دیا تھا۔اور الفا نامی تجارتی کشتی پانامہ کی ہے۔بھارت اپنی ناکامیا ں چھپانے کے لئے ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔ادھر بھارتی کمانڈو نے ہوٹل کے باہر جو بریفنگ دی ہے اس کے مطابق دہشت گردوں کی کاروائی سے یہ بات واضح ہے کہ وہ انتہائی تربیت یافتہ اور ہوٹل کے راستوں سے اچھی طرح واقف تھے۔وہاں سے حاصل ہونے والے بیگ سے بعض کریڈٹ کارڈ برآمد ہوئے ہیں جن میں سٹی بینک آئی سی آئی کے کارڈ شامل ہیں اس کے علاوہ چھ ہزار انڈین اور ڈالر ملے ہیں۔کمانڈو کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گرد بول نہیں رہے تھے اس لئے ان کی زبان کا کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم ایک مورشش کا شناختی کا رڈ ملا ہے۔یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ بھارت جس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس کی بحریہ بہت مضبوط ہے دہشت گرد اس بحریہ کو چکمہ دے کر اسلحہ اور گولہ بارود سمیت ممبی میں داخل ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے گا کھلے سمندر میں موجود امریکی جہاز بھی موجو درہتے ہیں اور امریکہ کے پاس سمندر میں ہونے والی سرگرمی کو ریکارڈ کرنے کا باقاعدہ نظام موجو دہے ۔بھارت کا یہ الزام بھی غلط ثابت ہو جائے گا لیکن یہ تاویلیں اور دیلیں تو ان لوگوں کے لیے ہیں جو اس کو مانتے ہیں لیکن بھارت تو ہرحال میں اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے پر تلا ہوا ہے ۔ یہ بات سمجھنے کی کوشش نہیں کی جارہی کہ
بعض طاقتیں اس پالیسی پر گامزن ہیںکہ دونوں ایٹمی طاقتوں کو آمنے سامنے لا کر جنوبی ایشیاءکو ایٹمی جنگ کی آگ میںٹھونس دیا جائے۔ شاید وہ یہ نہیں جانتے یہ آگ اگر لگی تو پھر آگ لگانے والوں کا بھی کچھ نہیں بچے گا۔اس لئے بھارتی اور پاکستانی قیادت کو اس سلسلہ میں الزام تراشیوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے دہشت گردی کی اصل وجوہات اور اس کے محرکات پر نظر رکھنی ہو گی۔اور ان بیرونی عناصر کو تلاش کرنا ہوگا۔جو اس جنگ کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی فکر میں ہیں۔

Topics: Khalid Minhas |

No comments for کیا پاک بھارت ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟خالد منہاس »

No comments yet.

Leave a comment

(required)

(required but not published)

RSS feed for comments on this post.

Your Ad Here